بنگلورو:14؍ مئی (ایس اؤ نیوز )10مئی کو ہوئے کرناٹکا ریاستی اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی 135ارکان اسمبلی کے ساتھ واضح اکثریت حاصل کر چکی ہے اور جمعرات کو حکومت کی تشکیل کرنے جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اقتدار واپس پانے کا خواب دیکھنے والی بی جےپی کو منہ کی کھانی پڑی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ اس بار ریاست کے9اضلاع میں بی جےپی کو ایک بھی نشست پر کامیابی نہیں ملی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جوڑی کو لے کر بی جے پی کو جو توقعات تھی، ان سب پر پانی پھر گیا ہے۔ اور ریاست میں بی جےپی کو صرف66 سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا ہے۔
کورگ، چک منگلورو، چک بلاپور، چامراج نگر، منڈیا، رام نگر ، کولار، بلاری ، یادگیری سمیت ریاست کے کل 9اضلاع میں بی جےپی کو ایک بھی حلقہ سے کامیابی نہیں ملی ہے۔ اسی طرح وجئےپورا، ہاویری ، میسور، بنگلورو رورل ، داونگیرہ ، وجئے نگر اضلاع میں بی جے پی کو صرف ایک ایک حلقہ میں کامیابی ملی ہے۔
بی جےپی کا مضبوط قلعہ مانے جانے والے چک منگلورو اور کورگ اضلاع میں اس مرتبہ ایک بھی سیٹ نہ ملنے سے بی جے پی کی خوب فضیحت ہورہی ہے۔ چک منگلورو میں 5ودھان سبھا اسمبلی حلقے ہیں ،کہیں سے بھی بی جےپی کو جیت نہیں ملی ہے پورے 5سیٹوں پر بھی کانگریس نے جیت درج کی ہے۔
بی جے پی کا مضبوط قلعہ کمزور:2018کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی چک منگلورو کے 5میں سے 4حلقوں سے جیت درج کی تھی جب کہ کانگریس صرف ایک سیٹ پر کامیاب ہوئی تھی ۔ بابابڈھن گری (دتہ پیٹھ) کا تنازعہ جب سے شروع ہواہے تب سے اس کو سامنے رکھتے ہوئے سیاست کرتے ہوئے بی جےپی جیت حاصل کرتی رہی ہے۔ لیکن اس مرتبہ رائے دہندگان نے بی جےپی کاہاتھ نہیں پکڑا۔ بلکہ عوام نے اس بار ثابت کیا کہ ہر موقع پر مذہب کے نام پر سیاست کرناان کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔
ہمیشہ متنازعہ بیانات دے کرسرخیاں بٹورنے والے بی جےپی کے قومی جنرل سکریٹری سی ٹی روی خود ہار گئے ہیں اور ان کی شکست پارٹی کے لئے ہضم نہیں ہورہی ہے۔
ادھر کورگ ضلع کی بات کریں تو کورگ ضلع ہمیشہ بی جےپی کا بہت ہی مضبوط گڑھ ماناجاتا رہاہے۔ مگر ضلع کے 2اسمبلی حلقو ں سے اس مرتبہ کانگریس نے فتح کا پرچم لہرایا ہے۔بی جےپی مڈکیری اور وراج پیٹ اسمبلی حلقو ں سے 2004سے مسلسل جیت حاصل کرتی رہی تھی مگر اس بار مذہبی نفرت، مذہبی سیاست اور اقتدار کے خلاف چلنے والی ہوا سے بیزار عوام نے کانگریس امیدواروں کو منتخب کرتےہوئے بی جےپی کو سبق سکھادیا ہے۔
پرانے میسور علاقے میں بھی بی جےپی کمزور: پرانے میسورعلاقے میں اپنا کھاتہ کھولنے کے لئے بی جےپی بڑی کسرت کرتی رہی ہے۔ اس علاقےمیں وکلیگا طبقہ کو خوش اور راغب کرنے کےلئے اوی گوڈا۔ننجے گوڈا جیسے خیالی اشخاص کو سامنے لایاتھا۔ میسور۔ بنگلورو کے درمیان 6وے ایکسپرس کی تعمیر کے بہانے بڑی تشہیر کرنے کے باوجود بی جےپی کو ٹول فیس وصولی معاملے میں عوامی مخالفت کا سامنا کرناپڑا۔ اس کے ساتھ وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی جوڑی نے روڈ شو اور بڑے پیمانے پر تشہیری مہم کے ذریعے بی جے پی کو بنیاد فراہم کرنے کی جان توڑ کوشش کی ۔ لیکن اتنا سب کرنے کے باوجود بی جے پی کی کارکردگی کافی کمزور رہی ہے۔
منڈیا ضلع کے 7اسمبلی حلقوں میں سے ایک بھی سیٹ پر بی جے پی کو جیت نہیں ملی ہے۔ اسی طرح چامراج نگر ضلع کے 4اسمبلی حلقوں میں بھی بی جے پی کی کارکردگی صفر رہی ہے۔ رام نگر ضلع کے چاروں حلقوں میں ہار کاسامنا رہاہے۔ ہاسن ضلع میں لے دےکے 2سیٹوں پرجو کامیابی ملی اسی سے کسی حد تک مطمئن ہونا پڑا ہے۔
بااثر وزراء کی ہار: چک بلاپور ضلع کے 5اسمبلی حلقوں میں بی جےپی کو کہیں بھی جیت نہیں ملی ہے۔آپریشن کمل کے ذریعے بی جےپی میں شامل ہوئے ریاستی کابینہ کے وزیر ڈاکٹر سدھاکر چک بلاپور حلقے سے 2019میں ہوئے ضمنی انتخابات میں جیت حاصل کئے تھے اور کابینہ میں وزیر صحت کا قلم دان رکھتے تھے ۔ بی جےپی میں ایک بااثر وزیر کے طورپر ابھرنےو الے ڈاکٹر سدھاکر کووڈکے دوران ان کےخلاف رشوت خوری اور بدعنوانی کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ اسی وجہ سے اس مرتبہ ان کی ہار ہونے کی بات کہی جارہی ہے۔
کولار ضلع کے 6اسمبلی حلقوں میں سے 4پر کانگریس اور 2پر جے ڈی ایس نے قبضہ جمایا ہے۔ یہاں بھی بی جےپی کو ایک بھی سیٹ نہیں ملی ہے۔ بلاری، یادگیری اضلاع میں بھی بی جےپی کو ایک بھی حلقے سے کامیابی نہیں ملی ہے۔ صرف وجئے پورا، ہاویری ، ڈاونگیرہ ، چتردرگہ ، وجئے نگر اضلاع میں ایک ایک سیٹ پر کامیابی حاصل کرنابڑی بات ہے۔